نئی دہلی،04/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت نے رافیل معاملے میں سپریم کورٹ میں نیا حلف نامہ داخل کیا ہے۔اس میں حکومت اپنے پرانے موقف اور دلیلوں پر قائم ہے۔مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ سیکورٹی سے متعلق خفیہ دستاویزات کو عام کرنے سے ملک کی خود مختاری کو خطرہ ہے۔سپریم کورٹ کے رافیل سودے کے خفیہ دستاویزوں سے جوہری تنصیبات، انسداد دہشت گردی اقدامات وغیرہ سے متعلق خفیہ اطلاعات کا انکشاف ہونے کا خدشہ بڑھ گیاہے۔حکومت نے کہا کہ 14 دسمبر، 2018 کو رافیل کی سرکاری خریداری کی جانچ کی مانگ والی تمام درخواستوں کو مسترد کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ درست تھا۔حلف نامے میں حکومت نے کہا کہ رافیل نظر ثانی درخواستوں کے ذریعے سودے کی جانچ کی کوشش کی گئی۔میڈیا میں شائع تین آرٹیکل لوگوں کی اپنی اور خیالات ہیں نہ کہ حکومت کا آخری فیصلہ۔یہ تین مضامین حکومت کے پورے سرکاری موقف کا اظہار نہیں کرتے۔مرکز نے کہا کہ سیل بند نوٹ میں حکومت نے کوئی غلط معلومات سپریم کورٹ کو نہیں دی۔ سی اے جی نے رافیل کی قیمت سے متعلق معلومات کی جانچ پڑتال کی ہے اور کہا ہے کہ یہ 2.86 فیصد کم ہے۔مرکزی حکومت نے کہا کہ کورٹ جو بھی مانگے گا حکومت رافیل سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کے لئے تیار ہے۔رافیل پر نظر ثانی درخواستوں میں کوئی بنیاد نہیں ہے لہٰذا ساری عرضیاں مسترد کی جانی چاہیے۔